♡ URDUتبرّا سے نبوت تک کا سفر♡
لا إله إلا الله محمد رسول الله تبرّا سے نبوت تک کا سفر "باطل کے انکار سے حق کے اقرار تک" سب سے پہلے انسان اپنے دل میں بسے ہوئے تمام جھوٹے خداؤں، باطل معبودوں، نفسانی خواہشات اور اُن وابستگیوں کا انکار کرتا ہے جو اسے اللہ سے دور لے جاتی ہیں۔ پھر جب دل باطل کی آلائشوں سے پاک ہو جاتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو قبول کرتا ہے۔ یہی تطہیرِ قلب، جسے تبرّا کہا جاتا ہے، یعنی ہر اُس چیز سے بیزاری اور لاتعلقی جو حقِ الٰہی کی مخالف ہو، ایمان کا دروازہ ہے۔ جب دل صرف اللہ کے لیے خالص ہو جاتا ہے تو مومن رسولِ اکرم ﷺ کی رسالت کو قبول کرتا ہے اور گواہی دیتا ہے: "محمد رسول اللہ" یعنی محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس طرح تبرّا محض انکار کا نام نہیں بلکہ ایک روحانی تیاری ہے۔ جب انسان باطل سے منہ موڑ لیتا ہے تو اس کا دل نبوت کے نور کو قبول کرنے اور اللہ کی ہدایت، رحمت اور روشنی کی سلطنت میں داخل ہونے کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے۔ --- Imam Ali کی تعلیمات کے مطابق حق کی راہ دل کی تطہیر سے شروع ہوتی ہے۔ اللہ کی وحدانیت کا حقیقی اقرار اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک انسان ہر اُس ...