♡ Arabic♡ من رفض الباطل إلى قبول الحق الإلهي

لا إله إلا الله محمد رسول الله

من التبرّي إلى النبوّة

أيها الناس، إن أول الطريق إلى الحق أن يتبرأ المرء من كل معبودٍ سواه، ومن كل هوىً يملأ القلب، ومن كل تعلّقٍ يحجب العبد عن ربّه. فإذا طهّر قلبه من أوهام الباطل وأدران الشرك، أقبل على الله بقلبٍ سليم، وعرف أنه لا إله إلا الله وحده لا شريك له.

وإن هذا التطهير الذي هو التبرّي من كل ما يخالف الحق الإلهي هو باب الإيمان ومدخل اليقين. فإذا خلص القلب لله تعالى، وأفرد له الطاعة والمحبة والولاء، أقبل المؤمن على رسالة محمد ﷺ، فآمن بها وصدّقها وشهد قائلاً:

محمد رسول الله.

فالتبرّي ليس مجرد رفضٍ وإنكار، بل هو إعدادٌ للنفس وتهيئةٌ للروح لاستقبال نور الحق. فمن أعرض عن الباطل وأهله، تهيأ قلبه لتلقي نور النبوة، والدخول في ملكوت هداية الله ورحمته ونوره.

واعلموا أن طريق الحق يبدأ بتطهير القلب من الأوثان الخفية قبل الظاهرة، ومن عبادة النفس قبل عبادة الحجر، ومن اتباع الهوى قبل اتباع الضلال. فلا يتم توحيد الله حق التوحيد حتى يرفض الإنسان كل ما ينازع الله في ولائه وطاعته، من كبرٍ أو شهوةٍ أو ظلمٍ أو اعتقادٍ فاسد.

ألا ترون أن كلمة التوحيد تبدأ بالنفي قبل الإثبات؟ فإن القائل يقول: لا إله إلا الله، فينفي أولاً كل معبودٍ باطل، ثم يثبت العبادة لله الواحد الأحد. وهكذا يكون التبرّي سابقاً لقبول الحق، وممهداً لطريق الهداية.

فالتبرّي هو البراءة من الظلم والباطل والضلال، ومن كل سبيلٍ يبعد العبد عن ربه. وليس المقصود به مجرد البراءة من الآخرين، بل البراءة مما في النفس من أهواءٍ وحجبٍ تحول بينها وبين الله.

فإذا تحقق ذلك في القلب، نطق اللسان بصدقٍ وإخلاص:

لا إله إلا الله، محمد رسول الله.

اللهم صلِّ على محمدٍ وآل محمد، كما صليت على إبراهيم وآل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد. وبارك على محمدٍ وآل محمد، كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم، إنك حميدٌ مجيد.

فالإيمان رحلةٌ بين نفيٍ وإثبات؛ نفي الباطل وإثبات الحق، والخروج من ظلمات الهوى إلى نور الهداية، ومن أسر النفس إلى رحاب معرفة الله وطاعته.

♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کی مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت محض ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف سفر نہ تھی، بلکہ اپنے زمانے کے حالات و حقائق کے پیشِ نظر ایک حکیمانہ، عملی اور دوراندیش فیصلہ تھی۔ جب مکہ کا ماحول اس قدر معاند اور مخالف ہو گیا کہ اسلامی جماعت کی نشوونما اور بقا دشوار ہو گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی، جہاں اہلِ ایمان کو امن کے ساتھ زندگی بسر کرنے، عبادت کرنے اور اپنی اجتماعی تنظیم قائم کرنے کا موقع میسر آیا۔ بعد ازاں جب حالات بدل گئے اور قوت کا توازن حق کے حق میں ہو گیا، تو فتحِ مکہ کے موقع پر آپ ﷺ کا مکہ واپس آنا بھی ایک سوچا سمجھا، بامقصد اور تاریخی فیصلہ تھا۔

رسول اللہ ﷺ کا مشن صرف عقیدۂ توحید کی تبلیغ تک محدود نہ تھا۔ آپ ﷺ کو ایک زندہ اور متحرک معاشرے کی حفاظت، تربیت اور تعمیر بھی کرنی تھی۔ آپ ﷺ نے مظلوموں اور ستائے ہوئے لوگوں کو امید اور حوصلہ دے کر نفسیاتی مسائل کا علاج کیا؛ باہمی دشمنیوں اور قبائلی عصبیتوں کو کم کر کے سماجی انتشار کا خاتمہ کیا؛ منصفانہ تجارتی اصولوں، زکوٰۃ اور فلاحی نظام کے ذریعے معاشی عدل کی بنیاد رکھی؛ اور معاہدات، اتحادوں اور اجتماعی اداروں کے قیام کے ذریعے سیاسی استحکام، امن اور انصاف کو فروغ دیا۔ یوں آپ ﷺ نے ایک منتشر اور منقسم معاشرے کو اخلاقی اور روحانی اقدار پر قائم ایک متحد امت میں تبدیل کر دیا۔

یہ عظیم تبدیلی یک دم رونما نہیں ہوئی۔ ہجرت کے بعد ابتدائی دو برسوں (1 تا 2 ہجری / 622 تا 624 عیسوی) میں مسجدِ نبوی کی تعمیر، مہاجرین و انصار کے درمیان مؤاخات، اور مدینہ کے مختلف گروہوں کے درمیان معاہدات کے ذریعے نئی اسلامی جماعت کی بنیادیں استوار کی گئیں۔ اس کے بعد کے برسوں (3 تا 7 ہجری / 625 تا 629 عیسوی) میں بیرونی خطرات اور داخلی چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے اسلامی معاشرے نے اپنے انتظامی، قانونی، معاشی اور دفاعی ڈھانچے کو ترقی دی۔ یہاں تک کہ 8 ہجری (630 عیسوی) میں فتحِ مکہ کے وقت، ہجرت کے تقریباً آٹھ برس بعد، اسلامی ریاست ایک مستحکم، منظم اور بااثر نظامِ حکومت کی صورت اختیار کر چکی تھی، جو ایک وسیع اور متنوع آبادی کی رہنمائی اور انتظام کی صلاحیت رکھتی تھی۔

❤️

رسول اللہ ﷺ نے 1 ہجری میں مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت فرمائی۔ تقریباً آٹھ برس بعد، 8 ہجری میں، آپ ﷺ ایک اسلامی لشکر کے ساتھ مکہ واپس تشریف لائے اور فتحِ مکہ کے موقع پر پُرامن انداز میں شہر میں داخل ہوئے۔ فتح کے بعد آپ ﷺ نے خانۂ کعبہ اور اس کے گرد و نواح کو بتوں سے پاک کرنے کا حکم دیا۔ اسلامی روایات کے مطابق حضرت علی ابنِ ابی طالبؑ نے اس مبارک عمل میں آپ ﷺ کی معاونت کی۔ عرب کے دورِ جاہلیت میں الٰہ سمجھے جانے والے لات، عُزّیٰ اور منات جیسے معبودانِ باطل کے مراکز بھی بعد ازاں منہدم کر دیے گئے اور یوں جزیرۂ عرب سے بت پرستی کا خاتمہ ہونے لگا۔

❤️

عقیدے اور الٰہیات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ انسانی ذرائع اور اسباب کا محتاج نہیں۔ اگر وہ چاہتا تو ہر کام ایک لمحے میں انجام پا جاتا۔ قرآنِ مجید تعلیم دیتا ہے کہ جب اللہ کسی امر کا فیصلہ فرماتا ہے تو وہ صرف کہتا ہے: "کُن"، اور وہ ہو جاتا ہے۔ لیکن اللہ کی حکمت کا تقاضا اکثر یہ ہوتا ہے کہ اس کی مشیت انسانی کوششوں، انتخابوں، جدوجہدوں اور تاریخی مراحل کے ذریعے ظاہر ہو۔ ہجرت، مدینہ میں اسلامی معاشرے کی تعمیر، مختلف معاہدات، آزمائشیں اور بالآخر مکہ کی طرف کامیاب واپسی، یہ سب اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ الٰہی ہدایت انسانی عمل اور ذمہ داری کے ساتھ مل کر تاریخ کا رخ متعین کرتی ہے۔

لہٰذا اسلام کی کامیابی صرف ایمان کا ایک معجزہ نہ تھی، بلکہ صبر، قیادت، استقامت، ادارہ سازی، اجتماعی نظم و ضبط اور سماجی، معاشی و سیاسی معاملات کی حکیمانہ تدبیر کا بھی ایک عظیم سبق تھی۔

اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کو ایک لمحے میں نافذ کر سکتا تھا، لیکن اپنی حکمتِ کاملہ کے تحت اس نے ان واقعات کو انسانی اعمال اور تاریخی اسباب کے ذریعے ظہور پذیر ہونے دیا۔ اسی لیے رسول اللہ ﷺ کی سیرت صرف الٰہی حقائق کے انکشاف کا ذریعہ ہی نہیں، بلکہ یہ بھی دکھاتی ہے کہ حقیقی دنیا میں معاشروں کو کس طرح تعمیر، اصلاح اور پائیدار بنیادوں پر قائم کیا جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

WHY A CREATOR 🕋 & WHAT AM I?

If a Woman’s Stand for Equal Marital Rights.

نازک شیش محل - The Fragile Crystal Palace